ابنا: سول ہسپتال کوئٹہ سے ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن کی جانب سے کوئٹہ سمیت صوبے بھر سے آئے ہوئے ینگ ڈاکٹرز نے وزیر اعلی ہاوس تک احتجاجی ریلی نکالی جیسے ہی وہ ہسپتال کے احاطے سے نکل کر مین روڈ پر آئے اور وزیر اعلی ہاوس کی جانب بڑھنے لگے تو پولیس نے انھیں آگے جانے سے روکا جس پر پولیس اور ڈاکٹروں کے درمیان ہاتھا پائی شروع ہو گئی اور پولیس نے ڈاکٹروں کو منتشر کرنے کے لئے آنسو گیس کی شیلینگ کی اور ہوائی فائرنگ کی جس کے نتیجے میں جیو نیوز کے کیمرہ مین احسن رسول سمیت نو ڈاکٹر زخمی ہوگئے ۔ زخمیوں میں ایک بھی شامل ہیں جن کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے اس کے بعد مظاہرین منتشر ہوگئے ۔ بلوچ ڈاکٹر فارم کے مرکزی چیف ارگنائزر ڈاکٹر نصیر بلوچ نے جیو نیوزکو بتایا کہ اگر حکومت نے 24گھنٹوں کے اند ر اندر گرفتار ہونے والے ڈاکٹروں کو رہا نہ کیاا ور مطالبات تسلیم نہ کئے گئے تو کوئٹہ سمیت بلوچستان بھر میں ایمرجنسی سمیت تمام سرکاری ہسپتال میں کام مکمل طور پر بند کر دیا جائے گا۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
/169
اہم: اس پٹیشن کو منطقی انجام تک پہنچانے کے لئے 10 لاکھ ووٹوں کی ضرورت ہے مگر کیا کیا جائے کہ ابھی تک چالیس ہزار افراد نے بھی ووٹ نہیں دیا۔ فارورڈ کریں امام زمانہ (عج) کے صدقے۔ پلیز